اِن زبانوں میں دیکھئے:
شُعلے ہَیں ناصَری کے
شعلے ہیں ناصری کے، ہوائیں بُجھائیں کیوں خادِم ہیں ہم خُدا کے، بَلائیں سَتائیں کیوں آنکھوں میں روشنی ہے خُداوند کے پیار کی قاصِد ہیں راستی کے، نہ رُوحیں بچائیں کیوں تازہ مسح میں بِھیگے کب آئے ہیں زیب تن فتح سے بڑھ کے غلبہ نہ شیطاں پہ پائیں کیوں یِسُوع کے خُونِ پاک کے چِھینٹوں کے ساتھ ساتھ رُوحُ القُدس گواہ ہے، کہِیں اور جائیں کیوں مَلؔ کو خُدا نے چُن لیا، اپنا بنا لیا اِبنِ خُدا کے گیت نہ قُوّت سے گائیں کیوں