تُو جو چُھو جائے
تُو جو چھو جائے اِس مٹّی کو یہ مٹّی کُندن1 ہو جائے
کُمہار بنے جس برتن کا وہ برتن درپن2 ہو جائ
یِسُوع، یِسُوع
طوفانوں کی ہستی ہے کیا جب زندہ چٹان پہ ہوں آنکھیں
انگور کے پیڑ سے پَیوستہ3 ہر ڈالی ساون4 ہو جائے
تیرے لختِ جِگر5 نے پاک خُدا بختِ اِنسان6 بدل ڈالا
اِیمان جو لائے یِسُوع پر اَن٘بر کی دھڑکن ہو جائے
دُنیا چھوڑے، چھوڑے ساتھی، مٹّی کا کِھلَونا ہے اِنسان
گَر ہاتھ میں ہاتھ ہو یِسُوع کا تو مَوت بھی جِیون ہو جائے