ناصری کے سِوا


ناصری کے سِوا مَیں تو کچھ بھی نہیں
ہوکے اُس سے جُدا مَیں تو کچھ بھی نہیں

اُسکی راہوں پہ چلتا رہُوں عُمربھر
بِیت جائے یُوں ہی زندگی کا سفر
فضل کر تُو عطا مَیں تو کچھ بھی نہیں
ہوکے اُس سے جُدا میں تو کچھ بھی نہیں

خاک ہُوں خاک میں لَوٹنا ہے مجھے
یہ بدن کا وطن چھوڑنا ہے مجھے
وہ ٹِھکانا میرا مَیں تو کچھ بھی نہیں
ہوکے اُس سے جُدا میں تو کچھ بھی نہیں

اُسکا رستہ اگرچہ بڑا تنگ ہے
ہر قدم پہ مگر وہ میرے سنگ ہے
وہ میرا رہنما مَیں تو کچھ بھی نہیں
ہوکے اُس سے جُدا میں تو کچھ بھی نہیں