مُجھے اپنے لہُو کا رنگ دے دے

مجھے اپنے لہو کا رنگ دے دے 
کوئی رنگ تو ہو میرے جِینے میں
تیرا خُون چلے میری رگ رگ میں
تیرا دِل دھڑکے میرے سِینے میں

میرے جِسم میں جب تک جان رہے
میرے لب پہ تیرا نام رہے
دِل تیرا مسکن بن جائے یُوں پِھر وہ بےاِلزام رہے

جب چھوڑکے دُنیا جاؤں مَیں منزِل پر تجھ کو پاؤں مَیں
مجھ کو گر ایک اِشارہ ہو سَو جان بھی اپنی لُٹاؤں مَیں

جِینے کا راض ہے مَرنے میں مَرکر تُو نے سمجھایا ہے
تیرے جی اُٹھنے کی نِسبت سے اب مَوت فقط اِک سایہ ہے