نہ چھوڑیگا نہ چھوڑیگا

نہ چھوڑیگا نہ چھوڑیگا نہ چھوڑیگا نہ چھوڑیگا
اکیلا کبھی نہ چھوڑیگا
کبھی نہیں کبھی نہیں کبھی نہیں
کبھی نہیں چھوڑیگا

وہ وعدوں کا سچّا ہے چرواہا اچّھا ہے
وہ اِبتِدا اِنتِہا الفا اومیگا ہے

طوفانوں میں ساتھ ہے مَیدانوں میں ساتھ ہے
جنگ اُس کی وہ خُود ہی لڑے نِشانوں میں ساتھ ہے

وہ تنہا راتوں میں زندگی کے سنّاٹوں میں
اور نااُمِّیدی میں اور مُشکِلاتوں میں