میری رُوح خُدا کی پیاسی


میری روح خدا کی پیاسی ہے میری روح
جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے میری روح


رات اور دِن آنسو بہتے ہیں دُنیا والے سب کہتے ہیں
ہے کون کہاں ہے تیرا خدا
کیوں ہے اِتنا بےچَین یہ دِل
کیوں جان یہ گِرتی جاتی ہے ہوگا کِس دِن دِیدار تیرا
کب ہوگا مِلنا رُوبَرُو؟ میری رُوح

یردن کی زمین سے گاؤنگا کوہِ مِصغار سے گاؤنگا
گہراؤ سے گہراؤ تک
رات اور دِن ہوگا تیرا کرم مَیں گیت دُعا کے گاؤنگا
وہ مجھ پہ کرے اپنی رحمت
ہے میری بس یہ آرزو میری روح

دُشمن کی ملامت تِیر سی ہے
کیوں اُسکے ظُلم کا سوگ کروں چٹان ہے میری میرا خدا
وہ مجھ سے ہر دم کہتے ہیں ہے کون کہاں ہے تیرا خدا ہوگا کِس دِن دِیدار تیرا
میرے ٹوٹے دِل کی آس ہے تُو میری روح